حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے غزہ جنگ کے تین سال مکمل ہونے پر جاری اپنے پیغام میں کہا: غزہ کے مظلوموں کا خون رنگ لا رہا ہے، آج پوری دنیا مسئلہ فلسطین کی جانب متوجہ ہو چکی ہے اور عام انسان بھی اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے فلسطینی مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا: غزہ کا مظلوم خون آج طاقت کی علامت بن چکا ہے اور اقوام متحدہ بھی اب اس صورتحال پر خاموش نہیں رہ سکا۔ غزہ کی سیٹلائٹ تصاویر قابض قوتوں کی جانب سے کی جانے والی تباہی کی سنگینی کو واضح کرتی ہیں جبکہ انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس اور اقوام متحدہ کی تحقیقات بھی فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم کی گواہی دے رہی ہیں۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: گزشتہ تین برس کے دوران فلسطین بالخصوص غزہ کے عوام پر جس نوعیت کے مظالم ڈھائے گئے، ان کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ تاہم یہ مظلوموں کا خون اور ان کی قربانیاں ہیں جو آج عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔ دنیا بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے، انسانی حقوق کی آوازیں اور صمود فلوٹیلا جیسے اقدامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ مختلف مذاہب، اقوام اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ارض فلسطین ایک صدی سے زائد عرصے سے مختلف سازشوں، نام نہاد اعلامیوں اور معاہدوں کی بھینٹ چڑھتی آئی ہے۔ 1917ء میں اعلان بالفور کے ذریعہ شروع ہونے والا یہ سلسلہ 14 مئی 1948ء کو اسرائیل کے قیام تک پہنچا، جس کے بعد بھی متعدد معاہدوں اور اقدامات کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو مختلف مراحل سے گزارا گیا۔ ان کے مطابق حالیہ اقدامات بھی اسی تاریخی سلسلے کا تسلسل ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے واضح کیا کہ فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ کسی بیرونی قوت کو نہیں بلکہ خود فلسطینی عوام کو اپنی نمائندہ تنظیموں، جماعتوں اور دوستوں کے ذریعے کرنا ہے۔
انہوں نے ارض فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء، بے گھر ہونے والے متاثرین اور جنگ سے متاثرہ افراد کے ساتھ خصوصی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: فلسطینی عوام کی آئینی، قانونی اور بنیادی حقوق کی جدوجہد میں اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔










آپ کا تبصرہ